بجلی کا زیادہ بل آنے پر ایک ہنستا بستا خاندان اُجڑ گیا، لیکن آخر قصور وار کون؟ دلخراش واقع پیش آگیا

    بجلی کا زیادہ بل آنے پر  ایک ہنستا بستا خاندان  اُجڑ گیا ۔

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    بڑھتی ہوئی مہنگائی نے انسان کا جینا حرام کر کے رکھ دیا ہے اس پر آئے روز حکومت کی جانب سے ٹیکس  عائد کرنے کے بعد  ہر شخص پریشان ہے ۔

     

     

    Advertisement

     

     

    فیول ٹیکس کی مد میں حکومت اور واپڈا نے جو ایک نیا ٹیکس عائد کرنا شروع کر دیا ہے  اس نے ہر گھر کی دال روٹی بھی مشکل بنا دی ہے ۔

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

    ایسا ہی ایک خاندان کے ساتھ ہوا ۔ میٹر پر تو صرف 82 یونٹ چلے لیکن بجلی کا بل 41500  روپے بھیجا۔ یہ کس حساب سے بجلی کا بل بھیجا گیا اس کو کس فارمولے کے تحت  لاگو کیا گیا کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی  سوال کرنے کا مجاز ہے ۔

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    جس شخص کو یہ بل آیا اس کے والد نے میڈیا پر بتایا کہ بل کو لے  اس نے واپڈا میں دو دن چکر لگائے ۔ ایس ڈی او سے بھی بات کی لیکن سب کا کہنا تھا کہ یہ بل آپ کو ادا کرنا ہی پڑے گا ۔

     

     

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

    والد کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایک پنکھا ہے  اور ایک بلب ہے جس کو ہم  بند کر دیتے ہیں۔ نہ ہم کولر استعمال کرتے ہیں نہ اے پھر اتنا زیادہ بل کیوں؟

     

     

    Advertisement

     

     

    ان کا کہنا ہے ان کا بیٹا رات کو نماز پڑھ  سویا اور فجر کی نماز بھی پڑھ کر آیا ۔ لیکن پریشانی کی وجہ سے اس کی طبعیت خراب ہوئی اور وہ انتقال کر گیا۔

    Advertisement

     

     

     

    Advertisement

     

    مرحوم کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے ۔  بیٹے کا کہنا ہے کہ وہ اب نوکری کی تلاش میں ہے پڑھائی کو خیر باد کہہ کر نوکری کرے گا ۔ تاکہ مالی حالات کو بہتر کر سکے۔

     

    Advertisement