اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو تو فوراً ان ہدایات پر عمل کریں، ورنہ آپ کا ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

 

یہ اتنہائی اہم معلومات آپ کو اعتماد ٹی وی کی طرف سے “آگاہی پروگرام” کے پلیٹ فارم سے دی جارہی ہے۔ یہ معلومات انتہائی اہم ہیں، اس لئے خد بھی پڑھ کر اس سے بچیں اور اپنے پیاروں کے ساتھ بھی شئیر کر کے انہیں بھی بچائیں۔

 

Advertisement

آپ کو ایسے مسیجز یا کالز موصول ہوتی ہوں گی کہ آپ کو فری منٹس اور فری بیلنس دیا جارہا ہے، لہذا، آپ کو ایک کوڈ بھیجا گیا ہے، آپ وہ کوڈ شئیر کریں اور فری منٹس، کالز یا فری بلینس حاصل کریں۔

 

مگر رُکئے! کیا آپ نے یہ تصدیق کی کہ جس نمبر سے آپ کو میسج کال آئی ہے، وہ کمپنی کا نمبر ہے؟ کیا آپ نے اس بات کی تصدیق کی جو بندہ آپ سے بذریعہ میسج یا کال کوڈ مانگ رہا ہے، وہ کمپنی کا نمائند ہے؟ کیا اس نمائندہ نے کمپنی کے رجسٹرڈ نمبر سے آپ کو کال کی؟

Advertisement

 

مزید پڑھیے: خبردار! کہی یہ معمولی سی غلطی آپ کو ہمیشہ کے لئے مشکل میں نہ ڈال دے۔

 

Advertisement

ان سب سوالوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر آپ کو ایسا کوئی بھی میسج موصول ہو، جو کمپنی کی طرف سے ہو اور اس کے فوراً بعد آپ کو کال آجائے یا پھر کوئی آپ کو کال کرے اور پھر دورانِ کال آپ کو کہے کہ ایک میسج آیا ہے آپ کے نمبر پر اس پر ایک کوڈ ہو گا وہ بتا دیں؟ تو فوراً محتاط ہو جائیں کیونکہ وہ بندہ غلط طریقے سے آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے کی کو شش کر رہا ہے۔ اس لئے فوراً کال بند کر دیں۔

 

اس بندے یا اس کال کے خلاف شکایت کیسے کی جا سکتی ہے؟

Advertisement

اگر آپ پولیس کو کال کر کے اس بارے میں بتائے گے تو وہ آپ کو کوئی اچھا جواب نہیں دیں گے، کیونکہ ان کے دائرہ اختیار میں یہ نہیں آتا۔ اس لئے اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اس کو متعلہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں۔

 

مزید پڑھیے: مچھلی کھائیں دھوکہ نہیں، جانئے تازہ اور صحت مند مچھلی پہچاننے کا پوشیدہ راز

Advertisement

 

اس مقصد کے لئے آپ کو سب سے پہلے اپنی ٹیلی فون کمپنی کے پاس اپنی شکایت لکھوانی ہوگی، اگر وہ بات نہیں سُنتے تو پھر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو شکایت درج کروانی ہوگی۔

 

Advertisement

چونکہ ہم پاکستان میں رہ رہے اس لئے اس سیکٹر میں آپ کو ابھی تک کو خاص سہولت موجود نہیں ہے، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ اس مقولہ پر عمل کریں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ اس لئے یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں۔

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *