دس سالہ بچے کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
دس سالہ بچے کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
آن لائن (اعتماد ٹی وی) سوڈان میں بچوں کے مزدوری کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس مزدوری کے دوران بچوں کی جا ن پر بن آتی ہے جیسے کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ایک واقعہ رونما ہوا۔
خرطوم میں دس سالہ بچہ (ماجد) سٹیٹ کلینگ کارپوریشن میں کام کرتا تھا۔ روزمرہ کے کام دوران جب کچرے کو ٹرک کے اندر پھینکا جا رہا تھا تو ماجد کچرے کے ساتھ خود بھی اس میں پھنس گیا ۔
ٹرک کے جس حصے میں بچہ پھسا وہ ٹرک کا ہائیڈرالک ہیچ ہے جس کی مدد سے کچرے کو کچلا جاتا ہے۔
وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ کسی مزدور کو ٹرک کے ہائیڈرالک ہیچ میں بچے کی ہتھیلی نظر آرہی تھی تو اس نے کارپوریشن سٹاف کو اطلاع دی ۔
وہاں امدادی ٹیموں کو بلایا گیا تاکہ بچے کی جان بچائی جا سکے۔ اس سارے سلسلے کی ویڈیوز ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر دکھائی جارہی تھیں۔
امدادای ٹیم کے لوگوں نے ایک ویلڈ ر کے مد د سے اور کھدائی والی مشین کی مدد سے ٹرک کے ہیچ کو کھولنے کی کوشش کی ۔
وہاں پر موجود مختلف لوگ بچے کو نکالنے کے لئے مشورے دے رہے تھے۔ بالآخر 8 گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد ٹرک سے بچے کو باحفاظت نکال لیا گیا۔ اور متعلقہ علاقہ کی پولیس کو بھی بلایا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش کی اور بچے کو ہسپتال علاج کے لئے لے جایا گیا ۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ملک کی خراب اقتصادی صورتحال کے تحت سوڈان میں چائلڈ لیبر کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
خرطوم اور دیگر بہت سے شہروں میں بہت سے بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحد ہ میں یونیسیف ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں 30 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں اور مزدوری کر رہے ہیں۔
بچے اینٹوں کے بھٹے ، صفائی کے محکموں اور کچرہ جمع کرنے والے محکموں میں مزدوری کر رہے ہیں بلکہ بعض جگہوں پر بچوں کو بطور سپاہی بھی بھرتی کیا جارہا ہے۔
کارپوریشن یا ایسے اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہونے والے حادثوں پر ادارہ ان کی کوئی امداد نہیں کرتا ۔ جس کی وجہ سے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔