گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہو گا نہ پرانا، خوبصورت نظر آنا کس کو پسند نہیں ہوتا۔
گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہو گا نہ پرانا، خوبصورت نظر آنا کس کو پسند نہیں ہوتا۔
لاہور (اعتماد ٹی وی ) خوبصورتی کے حوالے جہاں پہلے زمانوں میں دیسی ٹوٹکے آزمائے تھے آج بھی خوبصورتی کی اس دوڑ میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے۔
جہاں پہلے رنگ گورا کرنے والی کریموں کا راج تھا تواب مختلف ادویات استعمال کی جارہی ہیں۔ کہیں انجکشن لگوائے جارہے ہیں تو کہیں ڈرپس۔ غرض یہ کہ خوبصورت اور گورا رنگ ہر کسی کی پہلی ضرورت بن گئی۔
گورے رنگ اور فٹنس کے اس رجحان کی وجہ سے کئی میڈیکل سنٹرز کھل چکے ہیں جہاں مختلف سرجریز کے ذریعے انسان کو خوبصورت بنایا جاتا ہے۔ جیسے کہ ہونٹوں کو سرجری کے بڑا اور موٹا کرنا ،چہرے کی جھریاں دور کرنا، ناک کو سرجری کے ذریعے تیکھا بنانا ۔
ایسے ہی ایک ادارے کو ڈاکٹر شائستہ لودھی چلا رہی ہیں۔شائستہ لودھی جو کہ معروف مارننگ شو کی میز بان رہ چکی ہیں اور مختلف ڈراموں میں اداکاری بھی کر چکی ہیں اب ایک Aesthetic ادارہ چلا رہی ہیں۔
انھوں نے حالیہ پروگرام میں بات چیت کے دوران بتا یا کہ رنگ گورا کرنا پہلے اداکاروں کی پہچان تھا لیکن اب یہ بات عام ہوگئی ہے۔ اب تو سیاست دان بھی اس میں شمولیت اختیار کرگئے ہیں۔
بہت سے سیاست دان بھی اپنی ظاہری حالت کو تبدیل کروانے کے لئے ایسے سنٹرز کا رُخ کر رہے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں مصنوعی خوبصورتی بڑھانے کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شائستہ نے کہا کہ اگرچہ ملک میں مہنگائی زیادہ ہے لیکن پھر بھی عمران خان نواز شریف سے بہتر ہیں ۔ ان کو وقت درکار ہے وہ اپنی قابلیت ثابت کرلیں گے۔