قربانی کا حقیقی مقصد، جاہلیت کا غلبہ اور میڈیا کا منفی کردار

    قربانی ،زمانہ جاہلیت اور ہمارا معاشرہ

    قربانی کا عمل وہ عمل ہے جس کی تاریخ صفحہ ہستی پر اتنی طویل ہے کہ شاید کسی اور عمل کی ہو۔ عربی زبان میں قربانی کو “اضیحہ” کہتے ہیں اور اردو میں اس کے معنی “تقرب حاصل کرنا” کے ہیں۔ قربانی کے معنی بہت وسیع ہیں، رضاۓالہی کے لئے اللہ کی راہ میں کسی دکھاوے اور دنیاوی فائدے سے ہٹ کر اپنے مال میں سے خرچ کرنا قربانی ہے۔

    قربانی کی عبادت حضرت آدم کے زمانے سے ہے اس کے بعد ہر امت پر اس عبادت کو شریعت کے قوانین اور اعمال میں شامل کیا گیا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ”اور ہم نے ہر امت کے لئے اس غرض سے قربانی کرنا مقرر کیا تھا کہ وہ چوپا ہوں کی قسم کے مخصوص جانوروں کو قربان کرتے وقت اللہ کا نام لیا کریں جو اللہ نے ان کو عطا کیے ہیں” یعنی قربانی کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کے احکامات ہر امت کے لئے اتارے گئے ہیں وہ ہم مسلمان حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد میں عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔

    اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ذبح کا اصل مقصد جان کو پیش کرنا ہے یہ صدقہ نہیں ہے کیوں کہ قربانی کی روح جان دینا ہے اور صدقہ کی روح مال دینا ہے اور صدقہ کے لیے کوئی دن مقرر نہیں مگر قربانی کے لئے خاص دن کو مقرر کیا گیا ہے۔

    زمانہ جاہلیت میں لوگ سرخرو ہونے کے لئے اپنے بچوں کو ذبح کردیا کرتے تھے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو بیٹے کی قربانی کا حکم دیا اور پھر حضرت اسماعیلؑ کی جگہ دنبےکو ذبح کیا گیا تاکہ لوگ ہدایت حاصل کر سکیں۔ اسلام سے قبل لوگ گمراہ ہو چکے تھے اور وہ اپنے دیوی دیوتاؤں اور بتوں کے لئے قربانی کیا کرتے تھے۔ کچھ لوگ دکھاوے اور کچھ لوگ اپنی منت پوری کرنے کے لیے قربانی کیا کرتے تھے اور اسلام میں اس بات کا درس دیا کہ ہماری قربانی، ہماری عبادات ، ہمارا زندہ رہنا اور ہماری موت سب اللہ ہی کے لئے ہے۔

    قربانی کرنا پسندیدہ عبادات میں سے ہے اور قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ “تم نیکی کو نہیں پا سکتے یہاں تک کہ اس چیز سے خرچ کرو جس سے تم محبت کرتے ہو”
    قربانی کے موقع پر جانور کو ذبح کرنے سے انسان کے “نفس امارہ” کو زبح کرنے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ نفس امارہ دنیاوی رغبتوں کی جانب لے جانے والا ہے لیکن جب انسان اس سے نکل آتا ہے تو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے اور متقی کہلاتا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے میں امیر امیر تر کر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور جیسے جیسے مہنگائی کا گراف اوپر جا رہا ہے اسی طرح دکھاوے اور خودنمائی کا گراف بھی اوپر جا رہا ہے۔ جانوروں کی بولیاں لگائی جا رہی ہیں جو سب سے زیادہ بولی لگاتا ہے وہ سب سے پرہیزگار اور نیک مسلمان سمجھا جاتا ہے اور میڈیا پر اس شخص کی تصاویر شائع کی جاتی ہیں کہ اس میں لاکھوں کے جانور اللہ کی راہ میں قربان کیے ہیں اور دوسری طرف غریب طبقہ پریشان نظر آتا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں ان کے لئے قربانی کرنا ناممکن ہو چکا ہے ۔

    عیدالاضحی جسے نہایت عقیدت سے منایا جاتا تھا۔ افسوس، اب ایسا نہیں رہا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دلوں میں احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ صرف اپنے رشتے داروں محلے داروں اور دوسرے لوگوں سے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ ہم قرآن پاک کے احکامات کو بھلا چکے ہیں۔ جس میں واضح الفاظ میں ارشاد ہوا ہے “اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ہی ان کا خون اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے”۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس نمود و نمائش سے پرہیز کریں جس سے ان لوگوں کی دل آزاری نہ ہو جو قربانی کی سنت کو ادا نہیں کر سکتے ۔

    نوٹ: یہ ایک تربیتی تحریر ہے جس کا مقصد عوام میں آگاہی و شعور پھیلانا ہے۔ مزید رابطہ کے لئے کمنٹ بکس کا استعمال کرے یا پھر ہمیں ای میل کرے
    Reporter.aitmaadtv.com